Disable Preloader

Latest News

یہ اقدام وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا کی خصوصی ہدایات کے تحت صوبائی کابینہ کی منظوری سے عمل میں لایا گیا۔ تقریب کی مہمان خصوصی محترم مینا خان افریدی، صوبائی وزیر برائے لوکل گورنمنٹ الیکشن اینڈ رورل ڈویلیپمنٹ اور محکمہ اعلیٰ تعلیم تھے۔ اس موقع پر اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے معزز ممبران صوبائی اسمبلی، سرکاری حکام، اور اقلیتی برادری سے تعلق رکھنے والے افراد نے بڑی تعداد میں شرکت کی۔ چیکس کی تقسیم سے قبل ایڈیشنل سیکرٹری اوقاف، حج، مذہبی و اقلیتی امور جناب حبیب خان نے صوبائی وزیر محترم مینا خان افریدی اور دیگر شرکاء کو ایک جامع پریزنٹیشن پیش کی۔ اس پریزنٹیشن میں درج ذیل اہم امور کا احاطہ کیا گیا • ادارہ جاتی اور ریگولیٹری فریم ورک • ترقیاتی اقدامات بشمول 61 ملین روپے کا اسکالرشپ پروجیکٹ برائے اقلیتی طلبہ • اقلیتی طلبہ کے لیے قومی آؤٹ ریچ پروگرام • 32 ملین روپے کا ویلفیئر پیکیج برائے اقلیتی برادری • مائنارٹیز اینڈومنٹ فنڈ (200 ملین سے بڑھا کر 400 ملین) • عبادت گاہوں کے لیے آلات کی فراہمی • اقلیتی قبرستانوں کے لیے زمین کی خریداری (50 ملین روپے کا منصوبہ) • عبادت گاہوں اور رہائشی کالونیوں کی بحالی (513 ملین روپے، 109 اجزاء پر مشتمل) • 2025-26 کے لیے ADP اسکیمز (جاری و نئی) • اوقاف املاک کی بنیادی شماریات اور بجٹ • محکمہ اوقاف کی کارکردگی، مسائل اور سفارشات صوبائی وزیر محترم مینا خان افریدی نے اپنے خطاب میں حکومتی اقدامات کو سراہتے ہوئے اس عزم کا اعادہ کیا کہ اقلیتی برادری پاکستان کے برابر اور باعزت شہری ہیں جن کی جان و مال کا تحفظ، متاثرہ علاقوں کی بحالی اور انہیں معاشی و سماجی طور پر خودمختار بنانا حکومت کی اولین ترجیحات میں شامل ہے۔ انہوں نے متعلقہ اداروں کو ہدایت کی کہ اقلیتی نوجوانوں کو جدید ڈیجیٹل مہارتوں اور معیاری پیشہ ورانہ تربیت سے آراستہ کیا جائے اور انہیں کاروباری معاونت فراہم کر کے خود روزگار کے قابل بنایا جائے تاکہ وہ قومی ترقی میں بھرپور کردار ادا کر سکیں۔ انہوں نے مزید واضح کیا کہ وزیر اعلیٰ خیبر پختونخوا جناب محمد سہیل افریدی کی ہدایات کی روشنی میں اقلیتی برادری کے مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کیا جائے گا اور ان کے مؤثر تحفظ و بااختیاری کے لیے مائنارٹی ڈائریکٹریٹ کے قیام کو یقینی بنایا جا رہا ہے، جس کے لیے ضروری اقدامات جلد مکمل کیے جائیں گے۔ اپنے خطاب کے دوران انہوں نے اس امر پر بھی زور دیا کہ حکومت خیبر پختونخوا اقلیتوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے اور انہیں اسلام اور آئین پاکستان کے تحت مکمل مساوی حقوق حاصل ہیں، جہاں ہر شہری کو اپنے مذہب پر عمل کرنے، عبادت گاہ قائم کرنے اور قانون کے سامنے برابری کی ضمانت دی گئی ہے جبکہ کسی بھی قسم کے مذہبی، نسلی یا صنفی امتیاز کی سختی سے ممانعت ہے اور اقلیتوں کے قانونی و ثقافتی حقوق کا تحفظ ریاست کی ذمہ داری ہے۔ انہوں نے کہا کہ آئین پاکستان ہر قسم کے امتیاز کو مسترد کرتے ہوئے اقلیتوں کو سیاست، تعلیم، ملازمت اور عبادت سمیت ہر شعبے میں مساوی مواقع فراہم کرتا ہے، اور اسی تناظر میں پاکستان تحریک انصاف ریاست مدینہ کو ایک مثالی ماڈل کے طور پر دیکھتی ہے جہاں نبی کریم ﷺ کی قائم کردہ فلاحی ریاست میں ہر مذہب، رنگ اور نسل کے افراد کو برابر کا شہری تسلیم کیا گیا اور انہیں مذہبی آزادی کے ساتھ ساتھ سیاسی و معاشی نظام میں بھی شریک کیا گیا۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ تحریک انصاف کا وژن ایک ایسا معاشرہ تشکیل دینا ہے جہاں تمام شہری، بلا امتیاز مذہب و مسلک، ترقی کے ثمرات میں برابر کے شریک ہوں، اور اسی وژن کے تحت اقلیتی برادری کے لیے انڈومنٹ فنڈ کو دوگنا کر کے 200 ملین سے 400 ملین تک بڑھایا گیا ہے جبکہ 500 لیپ ٹاپس کی فراہمی کے لیے 11 کروڑ 50 لاکھ روپے کی منظوری بھی دی گئی ہے، تاکہ اقلیتی نوجوانوں کو جدید دور کے تقاضوں سے ہم آہنگ کر کے انہیں بااختیار بنایا جا سکے۔

اس موقع پر سیکرٹری اوقاف، جناب عطا الرحمان نے اپنے خطاب میں کہا کہ صوبائی حکومت اقلیتی برادری کی فلاح و بہبود کے لیے ایک جامع حکمت عملی کے تحت مختلف منصوبوں پر عمل پیرا ہے، جن میں مالی امداد و گرانٹس کی فراہمی، طلبہ کے لیے اسکالرشپس، اقلیتی رہائشی کالونیوں کی بحالی و ترقی، عبادت گاہوں کو بنیادی سہولیات کی فراہمی، صاف پانی اور صفائی کے منصوبے، اور نوجوانوں کے لیے جدید ڈیجیٹل و ووکیشنل ٹریننگ پروگرامز شامل ہیں۔ انہوں نے اس موقع پر پروگرام کے تھیم کی وضاحت کرتے ہوئے کہا کہ آج کی تقریب کا بنیادی مقصد شمولیت (Inclusivity)، مذہبی رواداری اور عدم تشدد کے فروغ کو یقینی بنانا ہے، کیونکہ ہم سب پاکستانی ہیں اور اس ملک کے برابر کے شہری ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ جب شہریت برابر ہے تو حقوق بھی برابر ہیں، تاہم اقلیتی برادری اپنی اہمیت اور مثبت کردار کے باعث ریاست اور معاشرے کے لیے ایک خصوصی حیثیت رکھتی ہے، اسی لیے حکومت انہیں اضافی سہولتیں اور مواقع فراہم کرنے کے لیے پُرعزم ہے تاکہ وہ مزید بااختیار ہو کر قومی ترقی میں بھرپور